کین سائنو کورونا وائرس ویکسین

کین سائنو (AD5-nCOV): کین سائنو بائیو لاجکس کی تیار کردہ کورونا ویکسین

اقتصاد، سائنس اور ٹیکنالوجی, کورونا وائرس ویکسینیشن کی معلومات, کورونا ویکسین
چینی فوج اور تیانجن میں قائم کین سائنو بائیو لاجکس کی تیار کردہ کورونا ویکسین AD5-nCOV کا تجارتی نام کونویڈیسیا ہے۔

ایک خوراک والی یہ ویکسین بھی وائرل ویکٹر ویکسین ہے۔ ویکسین کے ٹرائل کے حوالے سے فروری 2021ء میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق درمیانے درجے کی علامات سے بچانے میں اس کی افادیت 65.7 فیصد ہے جبکہ شدید بیماری سے بچانے میں اس کی افادیت 91 فیصد ہے۔
اس کے فیز 3 ٹرائل ارجنٹینا، چلی، میکسیکو، پاکستان، روس اور سعودی عرب میں ہوئے جن میں 2020ء کے اواخر تک 40 ہزار لوگ شریک ہوئے۔

کن افراد کو کین سائنو ویکسین لگوانی چاہیے

  1. 18 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد۔
  2. وہ افراد جنہیں موٹاپا، دل کے امراض، سانس کی بیماریاں اور ذیابطیس سمیت ایسی بیماریاں ہوں جو کورونا کا خطرہ بڑھادیتی ہوں ان کے لیے ویکسینیشن تجویز کی جاتی ہے۔
  3. حاملہ اور بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین۔

کن افراد کو کین سائنو ویکسین نہیں لگوانی چاہیے

  1. وہ افراد جنہیں ویکسین لگوانے کے وقت بخار ہو (ایسے افراد بیماری کے بہتر ہونے بعد ویکسین لگواسکتے ہیں)۔
  2. وہ مریض جن میں کورونا وائرس ایکٹو ہو۔
  3. جن افراد میں کورونا کی شدت نہ ہو وہ آئسولیشن کا عرصہ گزار کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
  4. جن افراد میں کورونا کی شدت زیادہ ہو وہ خطرے سے باہر آکر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
  5. ایسے افراد جنہیں شارٹ ٹرم امیونو سپریسیو ادویات دی گئی ہوں وہ ادویات کا استعمال مکمل ہونے کے بعد بھی 28 دن انتظار کریں۔
  6. طویل عرصے سے مدافعتی نظام کی کمزوری کا شکار افراد بھی یہ ویکسین لگوا سکتے ہیں تاہم ان میں اس ویکسین کی افادیت کم ہوسکتی ہے۔
  7. جن افراد کے اعضا کی پیوند کاری ہوئی ہو وہ پیوندکاری کے 3 ماہ بعد ویکسین لگواسکتے ہیں
  8. جن افراد کی کیمو تھراپی ہوئی ہو وہ کیمو تھراپی کے 28 دن بعد ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

جواب دیں