اسپٹنک وی

Sputnik v اسپٹنک وی : روس کے گمالیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف ایپیڈیمالجی اینڈ مائیکرو بائیولاجی کی تیار کردہ کورونا ویکسین

اقتصاد، سائنس اور ٹیکنالوجی, کورونا وائرس ویکسینیشن کی معلومات, کورونا ویکسین
روس کے گمالیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف ایپیڈیمالجی اینڈ مائیکرو بائیولاجی کی تیار کردہ اسپٹنک وی کورونا کی ایک اڈینووائرس ویکٹر ویکسین ہے۔

اسپٹنک وی ویکسین وصول کنندہ کے خلیوں میں مطلوبہ انٹیجن کی جنیٹک مٹیریل کوڈنگ پہنچانے کے لیے تبدیل شدہ وائرل ویکٹر کا استعمال کرتی ہے۔ دی لینسٹ میں اس ویکسین کے ٹرائل کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک عبوری رپورٹ میں غیر معمولی مضر اثرات کے بغیر اس کی افادیت کو 91.6 فیصد بتایا گیا۔ دسمبر 2020ء میں روس، ارجنٹینا، بیلاروس، ہنگری، سربیا اور متحدہ عرب امارات نے اس ویکسن کے ہنگامی استعمال کی اجازت دی۔
اسپٹنک وی تیار کرنے والے ادارے کے مطابق یہ دنیا کی ان 3 ویکسینز میں سے ایک ہے جس کی افادیت 90 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ ’اس ویکسین کی 91.6 فیصد افادیت 19 ہزار 866 رضاکاروں کے اعداد و شمار کے نتیجے میں سامنے آئی ہے ان رضاکاروں کو ویکسین کی دونوں خوراک یا پھر پلیسبو دیے گئے تھے۔ ان میں 78 کورونا کے مریض تھے‘۔

ڈبلیو ایچ او کے ماہرین نے یورپین میڈیکل ایجنسی کے ساتھ مل کر 10 مئی کو روس کی اسپٹنک V ویکسین کی جانچ کا دوسرا مرحلہ شروع کرنا تھا۔

کن افراد کو اسپٹنک وی : ویکسین لگوانی چاہیے

  1. 18 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد۔
  2. وہ افراد جنہیں موٹاپا، دل کے امراض، سانس کی بیماریاں اور ذیابطیس سمیت ایسی بیماریاں ہوں جو کورونا کا خطرہ بڑھادیتی ہوں ان کے لیے ویکسینیشن تجویز کی جاتی ہے۔
  3. حاملہ خواتین ڈاکٹر سے مشورے کے بعد ویکسین لگواسکتی ہیں۔ بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین ویکسین لگوا سکتی ہیں۔

کن افراد کو اسپٹنک وی ویکسین نہیں لگوانی چاہیے

  1. وہ افراد جنہیں ویکسین لگوانے کے وقت بخار ہو (ایسے افراد بیماری کے بہتر ہونے بعد ویکسین لگواسکتے ہیں)۔
  2. وہ مریض جن میں کورونا وائرس ایکٹو ہو۔
  3. جن افراد میں کورونا کی شدت نہ ہو وہ آئسولیشن کا عرصہ گزار کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
  4. جن افراد میں کورونا کی شدت زیادہ ہو وہ خطرے سے باہر آکر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
  5. جن افراد کو ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے کے بعد شدید منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہو وہ ویکسین کی دوسری خوراک نہ لگوائیں۔

پہلے سے موجود بیماری

  1. جو لوگ اکیوٹ سیویئر فیبریل اِلنس کا شکار ہوں انہیں دیگر ویکسینز کی طرح اسپٹنک V ویکسین بھی نہیں لگانی چاہیے۔ تاہم زکام یا کم درجے کے بخار جیسے معمولی انفیکشن کی وجہ سے ویکسین لگانے میں تاخیر نہیں کرنی چایے۔
  2. تھروموبائسیپینیا اور کوایگولیشن ڈس آرڈر
  3. تھروموبائسیپینیا، کسی کوایگولیشن ڈس آرڈر کا شکار افراد یا اینٹی کوایگولیشن تھراپی میں موجود افراد کو اسپٹنک V ویکسین لگاتے ہوئے احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ان افراد میں انٹرامسکلر ویکسین لگاتے ہوئے خون جاری ہونے یا چوٹ لگنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد

  1. یہ معلوم نہیں ہے کہ کمزور مدافعتی ردعمل کے حامل افراد، بشمول مدافعتی تھراپی حاصل کرنے والے افراد، ویکسین پر اسی طرح کا ردِعمل دیں جیسا کہ مضبوط مدافعتی نظام کے حامل افراد دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کا ویکسین کے حوالے سے ردِعمل بھی کمزور ہو۔ایسے افراد جنہیں شارٹ ٹرم امیونو سپریسیو ادویات دی گئی ہوں وہ ادویات کا استعمال مکمل ہونے کے بعد بھی 28 دن انتظار کریں۔
  2. طویل عرصے سے مدافعتی نظام کی کمزوری کا شکار افراد بھی یہ ویکسین لگوا سکتے ہیں تاہم ان میں اس ویکسین کی افادیت کم ہوسکتی ہے۔
  3. جن افراد کے اعضا کی پیوند کاری ہوئی ہو وہ پیوندکاری کے 3 ماہ بعد ویکسین لگواسکتے ہیں
  4. جن افراد کی کیمو تھراپی ہوئی ہو وہ کیمو تھراپی کے 28 دن بعد ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

تحفظ کا دورانیہ اور اس کی سطح

  1. اب تک تحفظ کے دورانیے کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔

جواب دیں