ظمیر اختر بیداری دنیا کی سپر پاور

دنیا کی سپر پاور کا سربراہ : ظهر اختر بیداری کا تجزیه

پاکستانی تجزیہ کاروں کا منتخب کالم

Sharing is caring!

جنگل میں درندے رہتے ہیں جنگل پر انھی کا راج ہوتا ہے اس لیے انسان جنگل میں جانے سے خوفزدہ رہتا ہے اور شہروں میں بھی تحفظ کے لیے پولیس، رینجرز، فوج کے سخت پہرے میں رہتا تھا جبکه آج کی دنیا کی سپر پاور کے سربراہ نے دنیا کو جنگل بنا دیا ہے.

انسان کی حفاظت کے لیے یہاں سارے اہتمام حکومتیں کرتی ہیں لیکن اگر بدقسمتی سے حکومتیں ہی بھیڑیے کا کردار ادا کرنے لگیں تو انسان کے تحفظ کا کیا ہوگا یہ ایک ایسا سوال ہے جو ایران کی رضاکار افواج کے سربراہ قاسم سلیمانی کو ان کے ساتھیوں سمیت ہیلی کاپٹر میں مروا کر جو جنگل کے قانون کو شہر میں لایا ہے۔

اس کی وجہ دنیا کا مہذب انسان سخت پریشان ہے۔ امریکی صدر کی یہ پہلی جارحیت نہیں ہے اس سے قبل بھی وہ کئی بار اس قسم کی جارحیت و بربریت کا مظاہرہ کر چکا ہے کیونکہ اسے ایک تو خفیہ معلومات پر عبور ہے دوسرے دنیا کی بڑی فوجی طاقت اس کے کنٹرول میں ہے جس کا وہ پورا پورا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ایران ایک چھوٹا ملک ہے اس لیے وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا اگر ایران بھی اس کی ٹکر کا ملک ہوتا تو اپنی رضاکار فوج کے سربراہ کے بدلے میں وہ امریکا کی فوج کے سربراہ کو کسی بھی جگہ قتل کرسکتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انصاف ایک فالتو اور فضول چیز کا نام ہے ’’اصل انصاف‘‘ طاقت ہے۔

دنیا کے عوام اگرچہ نہتے ہیں لیکن حق و انصاف کے حق میں اور ظلم اور ناانصافی کے خلاف سڑکوں پر آکر آواز بلند کرتے ہیں اور دنیا کے ہی نہیں بلکہ خود امریکا کے عوام سڑکوں پر آکر ٹرمپ کی حیوانیت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ لیکن صدر امریکا کی زبان سے ایک لفظ معذرت نہیں نکلا کیونکہ آج کے ترقی یافتہ کلچر میں غلطی پر معافی یا معذرت کا لفظ ادا کرنے کا فیشن نہیں ہے۔

دنیا کا ہر انصاف پسند ملک ٹرمپ کے ہاتھوں ایرانی رضاکار فوج کے سربراہ کا قتل کو بربریت سمجھتا ہے لیکن ٹرمپ اور اس کی حکومت کے خلاف نہ حرف شکایت زبان پر لاتا نہ احتجاج کرتا ہے بس خاموش رہنے میں ہی عافیت جانتا ہے دنیا کے آزاد اور خودمختار ملکوں کا یہ عمل اور رویہ نہ صرف انسان کی توہین ہے بلکہ بالواسطہ ظلم و بربریت کی حمایت ہے۔

کیا ان حقائق کی روشنی میں ٹرمپ کی یہ اوچھی اور ظالمانہ حرکت قابل قبول ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب عام آدمی سے لے کر اہل قلم اہل فکر اہل دانش ادیب، شاعر، فنکار سب پر فرض ہے اور اس سوال کے بے لوث جواب پر ہی ایک مہذب اور پرامن دنیا کا مستقبل وابستہ ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ماضی کی دنیا کو جہل اور بربریت کے ساتھ بیک ورڈ دنیا کا خطاب دیا جاتا ہے۔ میں ان حضرات سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایرانی جنرل کے ہیلی کاپٹر کو معہ ساتھیوں کے گرا کر انھیں موت کے منہ میں پہنچانے والے سورماؤں کو کس نام سے یاد کیا جائے؟ کالم لکھ کر یا تقریر کرکے اس قبیح حرکت کی مذمت کرنے سے فرض پورا نہیں ہوتا۔ یہ موجودہ اور آیندہ نسلوں کی طرز زندگی اور انسان اور انسانیت کے مستقبل کا سوال ہے یہ اور اس قسم کے دوسرے مسائل حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور اس جیسے جو ادارے بنائے گئے ہیں وہ خود انسانیت کے نام پر کوڑھ کے داغ ہیں۔

جنگوں کا سبب اختلافات بنتے ہیں اس حوالے سے سب سے پہلی ضرورت ہے کہ اختلافات کی نوعیت کو دیکھا جائے بعض اختلافات غلط فہمی پر مبنی ہوتے ہیں ایسے اختلافات پر عموماً جنگیں نہیں ہوتیں لیکن اگر ایک فریق ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے تو بات جنگوں تک جا پہنچتی ہے مثلاً ہندوستان اور پاکستان کو لے لیں ہندوستان اس مسئلے پر ابتدا سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ جب تقسیم کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو بھارت نے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اقوام متحدہ نے سماعت کے بعد فیصلہ دیا کہ دونوں ملک اس مسئلے کو رائے شماری کے ذریعے حل کرلیں۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کے فیصلے کو تسلیم کرلیا لیکن ہندوستان نے اقوام متحدہ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جو ایک کھلی ہٹ دھرمی اور اقوام متحدہ کے فیصلے کی خلاف ورزی تھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اقوام متحدہ بھارت سے اپنے فیصلے پر عمل کرواتی اگر ایسا ہوتا تو یہ مسئلہ بھی ختم ہو جاتا جنگ کے امکانات بھی ختم ہو جاتے۔

لیکن اقوام متحدہ نے ایسا نہیں کیا کیونکہ بھارت ایک بڑی طاقت تھا اور بڑے ملکوں کے مفادات کا تقاضا تھا کہ رائے شماری نہ کرائی جائے سو رائے شماری نہیں کرائی گئی بلکہ جنگ کو ترجیح دی گئی پاکستان چونکہ بھارت کے مقابلے میں چھوٹا اور کمزور ملک ہے لہٰذا وہ رائے شماری پر ضد نہ کرسکا اس دوران تعلقات میں اپ اینڈ ڈاؤن آتے رہے لیکن مسئلہ جوں کا توں رہا۔ اس حوالے سے پاکستان حق پر تھا لیکن طاقتور بھارت کے سامنے چپ سادھ لی لیکن یہ آگ سلگ رہی ہے۔

ایران ایک کمزور ملک ہے اور امریکا سپر پاور ہے، وجوہات یا اختلافات خواہ کتنے ہی سنگین ہوں، حالانکہ ایسے حالات نہ تھے لیکن ٹرمپ چوبیس گھنٹے طاقت کے نشے میں چور رہتا ہے اسی نشے میں اس نے اپنے فوجیوں کو یہ حکم دیا کہ ایرانی رضاکاروں کے چیف آف اسٹاف کے ہیلی کاپٹر کو گرا دیا جائے، سو ٹرمپ کے حکم کی تعمیل تو کردی گئی لیکن یہ نہ سوچا گیا کہ ایران ایک آزاد ملک ہے اور ایرانی ایک باعزت با وقار قوم ہیں جو ہوسکتا ہے فی الوقت خاموش رہیں لیکن موقع ملتے ہی حساب چکائے گی اگر ایسا ہوا، جو ہوگا تو دونوں ملک جنگ میں ملوث ہو جائیں گے لیکن اس کی ساری ذمے داری امریکی حکومت اور امریکی صدر پر آئے گی لیکن چونکہ امریکا ایک بڑا ملک ہے لہٰذا وہ بالادست رہے گا اگر جنگ کا سلسلہ چل پڑا تو دونوں ملکوں کا نقصان ہوگا اور دونوں طرف کے بے گناہ عوام مارے جائیں گے۔

اس ظلم اور ناانصافی کو ختم کرنا ہو تو طاقتور ملکوں کے گلے میں رسی ڈالنا ہوگا۔ یہ نہیں ہوگا کہ ٹرمپ صاحب کو کوئی شک یا شکایت ہوئی تو وہ اٹھے اور ایران کی رضاکار فورس کے سربراہ کے ہیلی کاپٹر کو تباہ کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ غنڈہ گردی ہے اور موجودہ مہذب دنیا میں اس قسم کی غنڈہ گردی کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ عزت نفس جس طرح افراد میں ہوتی ہے بالکل اسی طرح قوموں میں بھی ہوتی ہے ٹرمپ نے ایرانی قوم کی بے عزتی کی ہے سو اسے اس کا حساب جلد یا بدیر چکانا ہوگا اس میں کس کا کتنا نقصان ہوگا ایران کو اس کی پرواہ نہ ہوگی۔

جواب دیں