خطرناک کرونا وائرس

کیا خطرناک کرونا وائرس کسی لیبارٹری میں بنا ہے؟ کئی ملکوں کے سائنس دانوں کا جواب

کرونا وائرس کے متعلق آخرین اخبار

Sharing is caring!

خطرناک کرونا وائرس (کورونا) کی وبا نے جتنی تیزی سے سیارے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، اس سے زیادہ تیزی سے اس وائرس سے منسلک افواہیں اور سازشی مفروضوں نے اپنے پنجے پھیلائے ہیں۔

ان میں سے ایک سازشی مفروضہ یہ ہے کہ یہ وائرس قدرتی نہیں بلکہ امریکہ یا چین یا اسرائیل کی لیبارٹریوں میں تیار ہوا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

اس سازشی مفروضے کے پرزے ہوا میں اڑانے کے لیے احمد فراز کا یہ شعر ہی کافی ہے:

میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

لیکن سازشی مفروضہ بازوں کو اس سے کیا مطلب۔ اور تو اور، ایران نے سرکاری سطح پر اسے امریکی سازش قرار دیا ہے، البتہ انہوں نے اس دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت یا شواہد دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

اسی طرح ایک چینی ترجمان نے یہ الزام ضرور عائد کیا کہ یہ وائرس امریکی فوجی ووہان لے کر آئے تھے، لیکن انہوں نے کسی سازش کی بات نہیں کی، بلکہ صرف اتنا کہا تھا کہ جب نومبر میں ووہان میں دنیا بھر کے فوجیوں کا ٹورنامنٹ ہو رہا تھا، اس میں امریکی فوجی بھی شریک تھے، اور شاید ان میں سے کسی کو کو وی 2 کی بیماری تھی، جو وہاں سے ووہان میں پھیل گئی۔

ایک تو چینی ترجمان نے بھی کوئی شواہد پیش نہیں کیے، اور دوسرے، اگر یہ بات درست ہوتی تو پھر کو وی 2 کو پہلے امریکہ میں پھیلنا چاہیے تھا، نہ کہ چین میں۔

پاکستانی سیاست دان عبداللہ حسین ہارون نے بھی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دنیا جہان سے مفروضے اکٹھے کر کے بےپر کی اڑائی ہیں اور اسے کسی نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ قرار دیا ہے۔ اس تحریر میں ہم کوشش کریں گے کہ کرونا وائرس کے آغاز کے بارے میں موجود غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے۔

دو سو قسموں کے خطرناک کرونا وائرس

پہلی بات تو یہ ہے کہ حالیہ کرونا وائرس (اصل نام: SARS-CoV-2) کوئی نئی مخلوق نہیں ہے۔ کرونا وائرسوں کی دو سو کے قریب قسمیں اور نسلیں مختلف جانوروں میں پائی جاتی ہیں، اور اس سے سے پہلے چھ کرونا وائرس انسانوں کو بھی متاثر کر چکے ہیں، جن میں سے ایک سارس وائرس ہے جس نے 2003 میں دس ہزار کے قریب لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ اسی طرح مرس بھی کرونا وائرس کی ایک قسم ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں اونٹوں سے انسانوں میں منتقل ہوا اور سینکڑوں زندگیاں نگل گیا۔

کسی لیبارٹری میں تیار کیے جانے کے مفروضے کو پرکھنے کے لیے سائنس دانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے حالیہ کرونا وائرس کے جینوم (جینیاتی مواد) کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق میں سکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، نیویارک کی یونیورسٹی آف کولمبیا، نیو آرلینز کی ٹولین یونیورسٹی، سکاٹ لینڈ کی ایڈنبرا یونیورسٹی اور آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے حصہ لیا۔ یہ تحقیق معتبر برطانوی سائنسی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی اور آن لائن دستیاب ہے اور کوئی بھی جا کر مختلف کرونا وائرسوں کا حالیہ وائرس کے جینیاتی مواد کا تقابل کر سکتا ہے۔

قدرتی طور پر ارتقا پذیر خطرناک کرونا وائرس

سائنس دانوں نے اس تحقیق میں دو چیزوں پر خاص توجہ دی۔ ایک تو وہ کنڈا نما پروٹین ہے جس کی مدد سے یہ وائرس انسانی خلیوں تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اس پروٹین کو آر بی ڈی کہا جاتا ہے۔

دوسری چیز سارس کو وی 2 کا ساختی ڈھانچہ ہے۔ یہ ڈھانچہ پہلے سے معلوم کسی وائرس سے نہیں ملتا، بلکہ چمگادڑوں اور چیونٹی خور جانور پینگولن میں پائے جانے والے کرونا وائرسوں سے بہت مشابہ ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ اگر یہ وائرس لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہوتا تو اس کے جینیاتی مواد کے اندر کوئی پیٹرن نظر آتا۔ مگر اس کے جین اس قدر بےترتیبی سے بکھرے ہوئے ہیں جو قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کرسٹین اینڈرسن نے کہا: ’وائرس کی یہ دو خصوصیات، اس کی آر بی ڈی کی ساخت اور اس کا منفرد مالیکیولر ڈھانچہ سارس کو وی 2 کے لیبارٹری میں تخلیق کی تردید کرتے ہیں۔‘

ڈاکٹر اینڈرسن کہتے ہیں کہ ہمیں راتوں رات ہی پتہ چل گیا تھا کہ یہ وائرس قدرتی ہے۔ ’جینیاتی ڈیٹا ناقابلِ تردید طور پر ظاہر کرتا ہے کہ سارس کو وی 2 کسی سابق وائرس کے ڈھانچے پر نہیں بنایا گیا۔‘

دوسرے سائنس دان اس سے متفق ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کی بازل یونیورسٹی کی مالیکیولر ایپی ڈیمیالوجسٹ ڈاکٹر ایما ہوڈکرافٹ اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، بلکہ وہ ایک یورپی ادارے سے منسلک ہیں جو اس وائرس کے جینیاتی مواد پر تحقیق کر رہا ہے۔ وہ اپنی تحقیق کے نتائج بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ہمیں ہرگز کسی قسم کے شواہد نہیں ملے کہ یہ وائرس مصنوعی طریقے سے بنایا گیا ہو۔‘

خطرناک کرونا وائرس کی ایچ آئی وی کے ساتھ مماثلت؟

اس سے قبل ایک تحقیق شائع ہوئی تھی، جس میں یہ نظریہ پیش کیا گیا تھا کہ سارس کو وی 2 میں ایچ آئی وی کے جینیاتی مواد کے کچھ حصے پائے گئے ہیں۔ یہ بات سازشی مفروضہ بازوں کو شہ فراہم کرنے کا باعث بنی۔ البتہ ڈاکٹر ہوڈکرافٹ اور دوسرے سائنس دانوں نے اس تحقیق میں موجود خامیوں کی طرف اشارہ کیا جس کے بعد یہ مقالہ واپس لے لیا گیا۔

ہوڈکرافٹ کہتی ہیں کہ اس وائرس کے بعض حصے واقعی ایچ آئی وی سے ملتے جلتے ہیں لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کا جدِ امجد ایک ہے۔

ڈاکٹر ہوڈکرافٹ نے سائنس نیوز کو بتایا: ’یہ ایسے ہی ہے جیسے میں (ہومر کی کتاب) اوڈیسی اٹھاؤں اور دیکھوں کہ اس میں لفظ the موجود ہے، پھر میں کوئی اور کتاب لوں اور اس میں بھی لفظ the دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کر لوں کہ اس کتاب میں اوڈیسی کے کچھ حصے پائے جاتے ہیں۔ یہ گمراہ کن دعویٰ تھا اور بری سائنس۔‘

تو پھر یہ وائرس آیا کہاں سے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس چمگادڑ سے براستہ پینگولن انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔ جیسے اس سے پہلے سارس کا وائرس مشک بلاؤ نامی جانور (civet) سے یا مرس کا وائرس اونٹوں سے انسانوں کو لگا تھا۔

عام طور پر جانوروں کے وائرس انسانوں کو بیمار نہیں کر سکتے، وہ اس لیے کہ مختلف جانداروں کے حیاتیاتی نظام مختلف ہوتے ہیں اور ان کے اندر بیماریاں پھیلانے والے جراثیم بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔ جانور سے انسان میں منتقل ہونے کے لیے وائرس کو ایک ارتقائی چھلانگ لگانی پڑتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کے اندر جینیاتی مواد کے اندر اس طرح کی ارتقائی تبدیلیاں آنا ضروری ہوتی ہیں جو اسے جانوروں سے نکل کر انسانوں کو بیمار کرنے کا اہل بنا سکے۔

لیکن بڑے پیمانے پر وبا پھیلانے کے لیے یہ پہلا قدم ناکافی ہے، کیوں کہ اگر بیماری صرف جانور سے انسان کو لگے تو جانوروں سے انسان کا ربط آسانی سے ختم یا کم کر کے بیماری کو روکا جا سکتا ہے۔

 کو وڈ 19 جیسی عالمگیر وبا کا باعث بننے کے لیے وائرس کو ایک اور ارتقائی جست لگانا ضروری ہوتی ہے۔ اور وہ ہے انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا کرنا۔

سارس کو وی 2 نے یہ دونوں مراحل طے کیے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت دنیا کے لیے وبال بنا ہوا ہے۔

خطرناک کرونا وائرس انسان تک پہنچنے کے دو راستے

اس وائرس کے انسانوں تک ترسیل کے بارے میں دو مجوزہ راستے ہیں۔

پہلا یہ ہے کہ سارس کو وی 2 چمگادڑوں میں قدرتی طور پر موجود تھا، پھر وہاں سے ارتقائی جست لگا کر ممکنہ طور پینگولن میں گیا پھر وہاں سے کسی ایسے واحد انسان میں منتقل ہوا جس نے پینگولن کو چھوا تھا یا اس کے قریب رہا تھا۔ یاد رہے کہ پینگولن چیونٹی خور جانور ہے جو پاکستان میں بھی پایا جاتا ہے، خاص طور پر چکوال کے علاقے میں۔

اس فردِ واحد میں پہنچنے کے بعد اس وائرس میں ایک اور جینیاتی تبدیلی واقع ہوئی جس نے اسے انسان سے انسان تک پھیلنے کے قابل بنا دیا۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ سارس کو وی 2 چمگادڑ کے اندر ہی دونوں مراحل سے گزرا اور پھر انسانوں تک پہنچا۔

یہ صورت زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ اس کا مطلب ہے کہ یہ وائرس اب بھی جنگلی چمگادڑوں میں کہیں موجود ہے اور اگر اسے کسی نہ کسی طریقے سے انسانوں سے ختم بھی کر دیا جائے تب بھی یہ دوبارہ چمگادڑوں سے انسان میں منتقل ہو کر ایک اور وبا کو جنم دے سکتا ہے۔

اس تحریر کی تیاری کے لیے ان ماخذات سے مدد لی گئی: نیچر میڈیسن، نیو سائنٹسٹ، ویب ایم ڈی، فوربز میگزین، سائنس نیوز، لائیو سائنس۔

جواب دیں