ورکنگ فرام ہوم و ریٹائرمنٹ کے بعد

ورکنگ فرام ہوم : لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی

کرونا وائرس کے متعلق آخرین اخبار

Sharing is caring!

اکتوبر 2018 میں فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد یاروں دوستوں اور رشتےداروں سے ملاقات کے موقع پر ان کا پہلا سوال یہ ہی ہوتا تھا کہ آج کل کیا کر رہے ہو؟ کوئی کاروبار شروع کیا یا دوسری نوکری ملی کہ نہیں؟ آہستہ آہستہ یہ سوال مجھے ایسے لگنے لگا جیسے شادی کے فوراً بعد رشتےدار لڑکی سے پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ کوئی خوشخبری ہے کہ نہیں؟ جلد ہی مجھے اس بات کا ادراک ہو چلا تھا کہ اس بھونڈے سوال سے نئی نویلی دلہن کو کتنی کوفت ہوتی ہو گی؟۔
میری ریٹائرمنٹ سے تقریباً دو سال قبل ہمارے ایک قریبی عزیز فوج سے ریٹائر ہوئے تو وہ سرکاری رہائش گاہ سے اپنے نئے گھر منتقل ہوگئے۔ اس خوشی کے موقع پر انھوں نے ایک دعوت کا اہتمام کر ڈالا، اتفاق سے میں ان دنوں اپنی آخری پوسٹنگ پر نیا نیا راولپنڈی پہنچا تھا لہذا ان کی دعوت پہ میں بھی ان کی خوشی میں بمعہ بیگم شریک ہو گیا۔

ابھی ان کی (ایل پی آر) لیو پریپریٹری ریٹائرمنٹ کا پہلا ہی مہینہ تھا اور مہمانوں نے ان سے نئی نوکری سے متعلق اتنے سوالات کر ڈالے کہ کیا ہی طارق عزیز صاحب نیلام گھر میں کرتے ہوں گے۔

ایک دو سسرالی رشتے دار تو کچھ یوں گویا ہوئے کہ کرنل صاحب یوں ہی فارغ بیٹھے رہتے ہو یا کوئی کام شام بھی کرتے ہو؟
بیچارے کرنل صاحب جن کی پچیس سالہ فوجی نوکری کی تھکن بھی ابھی اتری نہ تھی، کافی دیر تک ایسے سوالات برداشت کرتے رہے اور آخر میں زچ ہو کر بول اٹھے کہ وہ اتنے بھی ویلے نہیں ہیں، صبح بچوں کو سکول چھوڑتے اور دوپہر کو لیتے ہیں، بازار سے پھل اور سبزی لاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ بھی انھوں نے گھریلو کاموں کی ایک طویل فہرست بیان کر ڈالی یہاں تک کہ سوال کرنے والے بے اختیار کہہ اٹھے “بس کر پگلے اب رلائے گا کیا”۔

میں اس وقت تو کچھ نہ بولا مگر کھانے کے اختتام پہ ان سے اجازت چاہی تو ہمت کر کے ان سے بازار آنے جانے اور گھریلو کاموں کی بابت جاننے کی کوشش کی تو موصوف بولے کہ جناب جی، ریٹائر ہو کے خود دیکھ لو ریٹائرمنٹ کے بعد کا سب پتا چل جائے گا۔

اس واقعے کے بعد باقی ماندہ نوکری کے دوران کرنل صاحب کے آخری جملے میرے کانوں میں گونجتے رہے اور بالآخر وہ دن بھی آ پہنچا جب ہمیں بھی جنرل ہیڈ کوارٹرز سے وہ مراسلہ موصول ہو ہی گیا جس میں ہماری پچیس سالہ کارکردگی کو سراہا گیا اور مستقبل کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔
ریٹائر ہونے کی دیر تھی ہر جان پہچان والے کو میرے سے زیادہ میری متوقع نوکری کی فکر ستانے لگی۔ ہر کوئی پوچھ رہا تھا کہ آجکل کیا کر رہے ہو؟ جان چھڑانے کے لیے جواباً کہہ دیتا میں “لا” کر رہا ہوں۔ اس عمر میں پڑھائی کی کیا ضرورت پیش آ گئی؟۔ اب ان کو کیا بتاتے کہ یہ وہ والا “لا” ہے جیسے دہی لا، تندور سے روٹی لا، اسکول سے بچوں کو لا۔
یہ “لا” کرتے کرتے میں اتنا تھک گیا کہ خود بھی اپنی نئی نوکری کے حصول کیلئے مصلّٰی پکڑ لیا۔ خدا خدا کر کے کراچی میں ایک نوکری کیلئے کال موصول ہوئی جس کو میں نے فوراً قبول کر لیا۔ کراچی آتے ہی “لا” کرنے کی ڈیوٹی بیگم کو سونپی اور خود نو سے پانچ کی نوکری سنبھال لی۔
کراچی آئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ وبائی مرض کورونا نے سر اٹھا لیا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آزمائش کی اس گھڑی میں ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، آمین۔ اس وبائی مرض کی بگڑتی صورت حال کے پیشِ نظر پورے سندھ کو لاک ڈاون کرنے کے احکامات جاری ہوگئے اور ہم اپنے گھر میں محصور ہو کر رہ گئے۔ اور ہمیں ورک فرام ہوم کے احکامات جاری ہو گئے۔

ویسے دفتر اور گھر کی روٹین میں زیادہ فرق نہیں محسوس ہو رہا۔ میں دفتر میں ہوتا تو ٹھیک دس بجے بیگنم کی کال آ جاتی تھی کہ سرتاج آج آپ کھانے میں کیا پسند کریں گے۔ اب وہ دس بجے بہ نفس نفیس ہم سے پوچھ لیتی ہیں کہ سرتاج آج آپ کھانا پکانے میں کیا پسند کریں گے؟

شکر ہے بات ابھی روٹی پکانے تک نہیں پہنچی۔ البتہ گزشتہ ایک ہفتے میں بڑے بڑے برانڈز کے ان دعووں کا پول میرے سامنے کھل گیا جو وہ اپنے ٹی وی اشتہارات میں کرتے تھے۔ آپ یقین کریں برتن دھونے والے صابن کی ایک مشہور کمپنی کا یہ دعویٰ کہ ایک چاکی 500 پلیٹیں دھو سکتی ہے سراسر غلط ہے، میں ہاتھ دھوتے دھوتے برتن بھی دھو ڈالتا تو معلوم پڑا کہ 500 میں سے ایک صفر اضافی ہے۔اور وہ جو کہتے ہیں کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں، وہ سب رائٹ کر دے گا وغیرہ وغیرہ یہ سب غلط دعوے ہیں۔ تنخواہ کی طرح یہاں بھی ہمیں تو “بونس” ہی راس آیا۔
وہ تو گھر سے باہر نکلنا بند ہے اس لیے فی الحال میں “لا” کرنے سے بچا ہوا ہوں۔ بہرحال میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ورک فرام ہوم کا آرڈر دینے والوں کو بتانا چاہیے تھا کہ ورک صرف دفتر والا ہو گا جبکہ ہماری بیگم اس کو گھریلو ورک سمجھ کر کہہ رہی ہیں کہ یہ سرکاری آرڈر ہے۔

میں یہ بھی سوچ کر پریشان تھا کہ یہ والا “ورک فرام ہوم” صرف میرے ہی لیے کیوں؟ میں نے جب بھی اپنے کولیگز کو کال کی تو بھابھی نے ان کا فون اٹینڈ کیا اور بتایا کہ وہ تو آرام کر رہے ہیں۔

میری یہ پریشانی اس دن دور ہوئی جب ایک دن میرا فون اس وقت بجا جب میں ہاتھ دھوتے دھوتے کچھ برتن بھی دھو رہا تھا۔ ہاتھ گیلے ہونے کے سبب بیگم نے فون اٹینڈ کیا اور میرے کولیگ کو بتایا دیا کہ وہ تو آرام کر رہے ہیں، اب سمجھ آیا مطلب ورک فرام ہوم کا اصل مطلب۔

رفرینس: شهریاریان

جواب دیں